تقدیر اور دجالیت
تقدیر
اللہ اور آخرت ، اللہ کے فرشتوں ، اللہ کی کتابوں ، اللہ کے نبیوں کے بعد تقدیر پر ایمان مومن کے لئے ایمان کا ایک لازمی جز ہے۔
’’ماشاء اللہ لاقوت الابااللہ‘‘ سورۃالکہف آیت ۳۹ ’’جو اللہ چاہے کوئی قوت نہیں سوائے اللہ کے‘‘ (جو اللہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اگر کوئی کام ہوجائے تو یہ ہمارا یا دنیاوی اسباب کا کوئی کمال نہیں ہوتا بلکہ ظاہری طور پر ایسا لگ رہا ہوتا ہے اور اصل میں اللہ نے ہمیں یا اسباب کو استعمال کر کے یہ کام کیا ہوتا ہے اس کام کہ ہوجانے میں اللہ کی مرضی ہوتی ہے اس نے چاہا ہوتا ہے تو یہ ہوا ہوتا ہے انسان کچھ نہیں کرسکتا جب تک اللہ نہ چاہے۔جبکہ اس کے ساتھ ہی اللہ نے انسان کو کچھ چیزوں میں ایک محدود اختیار Power of will عطا کی ہے یعنی اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی طاقت یا کسی دو چیزوں میں ایک کے انتخاب Select کرنے کی صلاحیت جو کے محدود ہی سہی لیکن عطا کی گئی ہے اور انسان کی دنیا میں آزمائشوں اور آخرت میں جزا اور سزا کی وجہ بھی یہی ہے کے اتنی بڑی چیز اللہ نے انسان کو عطا کی ہے جو پہلے صرف اللہ نے اپنے تک رکھی تھی پھر جنات اور انسان کو یہی چیز عطا فرمائی لیکن یہ چیز عطا کرنے کے بعد اللہ کی ایک شرط بھی ہے کہ جب وہ حکم دے تو ہم کو ہر حال میں اس کو ماننا ہے اور اس معاملےمیں اپنے نفس اپنی مرضی اور اختیار یا کسی اور کو اللہ کے حکم سے اوپر نہیں جانے دینا ہے کیونکہ رب اللہ ہے اور یہ طاقت power of will اس ہی کی عطا کردا ہے۔ اور اگر اللہ کوئی حکم دے اور انسان اسے نہ مانے اور اپنی مرضی اور اختیار اور اپنے نفس کی مانے تو یہ اللہ کی حدود سے تجاوز کرنا ہے اور اس کی آخری انتہا فرعون اور نمرود کی مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ انسان دنیا میں واحد ایک ایسی مادی materialistic چیز ہے جس کو اللہ نے عقل و شعور کے ساتھ self-consciousness اور اچھائی برائی کی تمیز عطا کی ہے جو کے جانوروں میں نہیں ہوتی ہے۔ اور جانور صرف اپنے نفس کی مانتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو self-consciousness ہوتی ہے اور نہ ہی اچھے برے کی تمیز۔ جب کوئی انسان دیکھ رہا ہوتا ہے یا سن رہا ہوتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ میں فلانہ یہ دیکھ رہا ہو یا سن رہا ہوں جب کہ جانوروں میں یہ چیز نہیں ہوتی ہے۔)
’’ولقدرِ خیرِہٖ وشرِہٖ مِنَ اللہِ تعالیٰ ‘‘ ’’اچھی اور بری تقدیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے‘‘ (انسان کوئی کام کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ ہوجائے تو اس کام کے ہوجانے میں اللہ کی مرضی ہوتی ہے اور اگر ناکامی حاصل ہو تو اس میں بھی اللہ کی مرضی ہوتی ہے اور ایسا اللہ نے چاہا ہوتا ہے۔ البتہ کسی مصیبت، سختی، تکلیف، آفت، نقصان یا کسی کام میں ناکامی کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی وجہ اگر کوئی کام کیا جائے اور اس میں فی الحال ناکامی ہوجائے جس کی وجہ سے کوئی نقصان ہو جائے یا اس کام کے علاوہ ویسے ہی کوئی اور آفت،مصیبت، مشکل آجائے تو اس میں اس انسان کے لئے دنیا یا آخرت کے لئے خیر پوشیدہ ہے۔ دوسری وجہ فی الحال ناکامی یا نقصان ، آفت،مصیبت کی وجہ اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ کی سزا ہے۔ تیسری وجہ فی الحال ناکامی، نقصان ، آفت،مصیبت کی وجہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ البتہ اچھی یا بری تقدیر کی اصل حکمت اللہ ہی کو معلوم ہوتی ہے انسان کو ہر وقت اللہ کی مرضی پر راضی ہونے کی کیفیت میں رہنا چاہیے کیوں کے جو ہوجاتا ہے تو وہ اللہ نے چاہا ہوتا ہے اور اس کی مرضی سے ہواہوتا ہے وہ ہمارا رب ہے ہمیں بنانے والا ہے ہم اس کے بندے اور غلام ہیں اس کا حق ہے ہم پر۔)
پہلی مثال: تصور کریں کے ایک کمرا ہے جس میں ایک انسان ہے اور ٹیبل پر ایک پانی سے بھرا گلاس رکھا ہے اس کو پیاس لگی ہے اور وہ پانی پینا چاہتا ہے۔
(کامیابی) وہ ٹیبل کے پاس جاتا ہے اور پانی پی لیتا ہے۔
(ناکامی) وہ ٹیبل کے پاس جاتا ہے اور پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے ٹکراتا ہے اور پانی کا گلاس گر جاتا ہے۔ یا وہ پانی لینے کے لئے اٹھتا ہی ہے کہ اتنے میں اس کی پالی ہوی بلی آتی ہے اور ٹیبل کہ اوپر چھلانگ لگاتی ہے جس سے اتفاقاً پانی کا گلاس گر جاتا ہے۔ البتہ اس کام کا ہونا یا نہ ہونا اللہ تعالیٰ نے چاہا ہوتا ہے اسباب چاہے جو بھی ہوں اور اس کی حکمت اسی کو معلوم ہوتی ہے۔
دجالیت
اس کے علاوہ تیسری مثال بھی ہے جس کا تعلق اللہ کی آزمائش سے ہے اور اس کے مطابق دنیا پر یہودیوں کے غلبے یعنی New world order اور ان دھوکے اور فریب کے ماہر انسانوں کے اس دجالی فتنے یعنی Secret societies سے ہے جو کے بڑھتے بڑھتے اس بڑے فتنے کی صورت اختیار کرے گا یعنی کہ ایک یہودی ’مسیح الدجال‘ جو حضرت عیسا ؑ ہونے کا اور خدائی کا دعوا کرے گا جس کے پیچھے بھی یہی دجالی لوگ ہوں گے جس کا اشارہ سورۃ الکہف کی دوسری آیت میں ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’ یہ کتاب بلکل سیدھی ہے تاکہ خبردار کردے ایک شدید آفت کے بارے میں اس کی طرف سے (یعنی اللہ کی طرف سے) اور خوشخبری سنائے ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں‘‘۔ یعنی یہ جو آفت ہوگی یہ مسلمان کے ایمان اور اعمال صالحہ پر اثر انداز ہوگی۔اعمال صالحہ یعنی نیک عمل کیا ہیں اس کے لئے سورۃالبقرا کی آیت نمبر ۱۷۷ جسے ’’ آیت البِر‘‘ بھی کہا جاتا ہے اس کا مطالعہ مفید ہوگا۔
ڈاکٹر اسرار احمد کی تفسیر بیان القرآن میں سورۃ الکہف کی دوسری آیت کو بہت تفصیل سے سمجھایا ہے اس کا مطالعہ مفید ہوگا بلکہ پوری سورۃ الکہف کا ہی اگر مطالعہ کر لیا جائے تو بہتر ہے۔ بہت سے علماء نے اس آیت کا ترجمہ ایسا کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شاید دوزخ کی آفت کا ذکر ہو رہا ہے لیکن اس میں عربی میں جو لفظ ہے یعنی بَاسًا اس کے معنی جنگ اور آفتوں، مصیبتوں کے ہیں اور اس کے فوری بعد والی آیت میں پھر عیسایوں کے اس جھوٹ کے بارے میں تذکراہ ہے جو وہ اللہ پر باندھتے ہیں یعنی حضرت عیسا ؑ کو اللہ کا بیٹا اور خدا مانتے ہیں نعوذبِااللہ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ اسی دجالی فتنہ کے بارے میں اشارہ ہے جو آخری زمانے (جس کا آغاز نبی آخر زماں محمدﷺ کی بعثت اور ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد سے شروع ہو چکا ہے) اس کے آخر میں واقع ہوگا۔ البتہ جیسا کہ صحیح احادیث میں ہے کہ وہ دجال جو خدائی کا دعوہ کرے گا اس کے ظہور سے پہلے شدید قسم کی جنگیں ہونگی جو کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہونگیں جس کا میدان جنگ مشرق وسطہ Middle East کا علاقہ بنے گا یعنی عرب مسلمانوں کا علاقہ اور یہ جنگیں جو World war 3 کہلائے گی اور احادیث میں اسے ’’الملحمت العظما‘‘ کہا گیا ہے اور بائبل یعنی انجیل میں اس جنگ کو Armageddon کہا گیا ہے۔ لیکن اس تیسری مثال سے پہلے یہ جاننا مفید ہوگا کے New world order کیا ہے اور سیکولرزم Secularism کیا ہے۔
[بیان القرآن انٹرنیٹ سے PDF فارمیٹ میں مفت ڈاونلوڈ کرنے کے لئے گوگل پر سرچ کیجئے اوپر Books سیکشن سے بھی ڈاونلوڈ کیا جا سکتا ہے]

0 Comments