Ad Code

Responsive Advertisement

Secret Societies kia hoti hain



Secret Societies کیا ہیں

Freemasonry         یہودیوں کی سپورٹ کردا ایک Organization ہےجن کے میمبرز یعنی Freemasons کو ان کے ایک خاص Order احکام ، اصولوں ،قوانین اور حلف کے تحت منظم کیا جاتا ہے اور ایسی برادری Fraternity تیار کی جاتی ہے جو مکمل طور پر سیکولر Secular اور لبرل Liberal عقائد پر مشتمل ہو۔ کیونکہ ان کے احکام اور اصولوں کا دارو مدار سیکورلرزم اور دین و مذہب کی مخالفت اور اس سے متعلق خفیہ مقصد یعنی ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ پر مشتمل ہے۔ اور اس میں Secret societies بنائی جاتی ہیں جیسے کہ Illuminati ان ہی کی بنائی ہوئی سب سے بڑی Secret Society ہے اور بھی ان کے بہت سے بے نام دوستانہ معاشرے friendly societies ، فائدہ مند معاشرے benefit societies اور باہمی تنظیمیں mutual organisations اور مختلف کٹپتلی ادارے Front organizations ان کے اس شیطانی برادرانہ آرڈر کی شکل اختیار کرتی ہیں لیکن یہ سب illuminati کے نیچے کام کرتی ہیں۔ اوریہ لوگ جو ان برادریوں کا حصہ ہوتے ہیں آپس میں ایک دوسرے کو مالی،سماجی، ثقافتی اور باہمی طور پر ہر طرح کے فائدے فراہم کرتے ہیں۔

 

بہت سے مماملک میں اس شیطانی Freemasonry کی شاخیں Branches کھلم کھلا کام کر ہی ہیں جنہیں لاجز Lodges کہا جاتا ہے اور اس کی عمارتیں دکھنے میں کسی چرچ کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ان میں بعض اوقات انعامات، تمغے، سجاوٹ، ڈگریاں، دفاتر، آرڈرز، یا دیگر امتیازات کا ایک نظام شامل ہوتا ہے جو اکثر نشان Insignia اور دیگر خفیہ رسومات rituals، خفیہ مبارکباد Secret greetings ، نشانات ، پاس ورڈز، حلف Oaths اور شیطانی قسم کی علامت پرستی Esoteric Symbolism جیسے کام سر انجام دیے جاتے ہیں۔

ان شیطان کے پجاریوں نے پہلا گرینڈ لاج لندن کا گرینڈ لاج اور ویسٹ منسٹر جو بعد میں انگلینڈ کا گرینڈ لاج کہلایا گیا ان کی بنیاد 24 جون 1717ء کو رکھی۔ اور اس کے بعد 1720ء کی دہائی میں انگلینڈ میں زیادہ تر موجودہ لاجز نئے ریگولیٹری ادارے میں شامل ہو گئے یعنی حکومت نے انہیں قانونن جائز قرار دے دیا اور پھر یہ کھلم کھلا اپنی تشہیر اور توسیع کرنے لگ گئے۔ اور اس طرح ان شیطان کے پجاریوں نے اور ممالک میں بھی نئے لاجز بنائے اور اپنے میمبرز میں اضافہ کرنے لگے۔

 

The Order of the Illuminati

ایک روشن خیالی Enlightenment-age کے دور کی خفیہ سوسائٹی ہے جس کی بنیاد 1 مئی 1776ء کو ایک پروفیسر اور فلسفی ایڈم ویشاپٹ نے اپر Bavaria جرمنی میں رکھی۔ یہ تحریک Free thought یعنی آزادنہ سوچ، سیکولرازم، لبرل ازم، Women-Liberty یعنی عورتوں کی آزادی ، جمہوریت اور صنفی مساوات Gender equality کے حامیوں پر مشتمل تھی جنہیں جرمنی کے Masonic lodges سے بھرتی کیا گیا جنہوں نے سکولوں کے ذریعے دین و مذہب کی خدائی تعلیمات کو چھوڑ کر صرف اور صرف عقلیت پسندی Rationality پر مبنی تعلیم دینے کی شروعات کی(یاد رہے اگر ریشنیلٹی پر مبنی تعلیمات اللہ کی آسمانی تعلیمات و احکام کے ساتھ اور اس کے مطابق استعمال کی جائیں تو یہ انتہائی فائدہ مند ہیں لیکن اگر خدا کی آسماتی تعلیمات کو چھوڑ کر اور ان کو رد کر کے صرف ریشنیلٹی پر عمل کیا جائے تو پھر یہ دجالیت اور شیطانیت بن جاتی ہے)۔ 1785ء میں، باویریا کے الیکٹر چارلس تھیوڈور جو ایک رومن کیتھولک فرقے کا عیسائی مذہب پسند بادشاہ تھا اس نے اس سیکرٹ سوسائیٹی پر پابندی لگاکر اسے بند کروا دیا تاکہ خفیہ معاشروں کے خطرے کو بے اثر کردیا جائے۔ اور اس کے بعد سے یہ سیکرٹ سوسائیٹی خفیہ طور پر پس پردہ کام کرنے لگی اور بعد میں اسی باویریا کی بادشاہت جس نے ان پر پابندی لگائی تھی اور اس کے ریاستی مذہب Roman Catholicism عیسایت جو کے ایک بنیاد پرست عیسائی فرقہ ہے اس کی بادشاہت کا تختا الٹانے میں بھی کامیاب رہی۔

 

اس کے بعد فرانس میں French-revolution بھی اسی سیکرٹ سوسائیٹی یعنی الومناٹی ہی نے کروائی۔ (یعنی ایک لبرل جمہوری انقلاب جو 1789ء سے شروع ہوا اور نومبر 1799ء میں فرانسیسی قونصل خانے کے قیام کے ساتھ ختم ہوا۔ جس کا نتیجہ فرانس میں بھی رومن کیتھولک چرچ کی وفادار بادشاہت Ancien Regime کا خاتمہ کروایا ’’ٹھیک اسی طرح جیسے Bavaria کی عیسائی بادشاہت کا خاتمہ کروایا‘‘ اور چرچ اور عیسائی دین و  مذہب کے حکومت و معاشرے پر اثر و رسوخ کا خاتمہ کیا اور ایک لبرل جمہوریت پر مبنی French First Republic بنانے میں کامیاب ہوئے یہ وہ دور تھا جب دنیا میں پہلی بار Democracy یعنی جہوریت پر مبنی حکومت وجود میں آئی۔ اس کی تخلیق کردہ اقدار اور ادارے آج تک فرانسیسی سیاست پر حاوی ہیں۔ اور اس میں جو نارے اور مختلف موقعوں پر جو جملے استعمال ہوئے جیسے liberté, égalité, fraternité یہ دیگر بغاوتوں میں دوبارہ نمودار ہوئے، جیسے کہ 1917ء کا روسی انقلاب Russian revolution اور عالمی حق رائے دہی کے لئے مہمات کو بھی متاثر کیا۔)

 

اور اس کے بعد یہ سیکرٹ سوسائٹی یورپ اور باقی دنیا میں خفیہ طور پر ایک انقلابی لہر کو منظم کرنے میں کامیاب رہی جس سے روشن خیالی Liberalism اور Secularism کے سب سے زیادہ بنیاد پرست نظریات اور تحریکوں کو پھیلایا گیا جن میں مذہب  اور دین مخالف ، بادشاہت مخالف، اور پدرانہ نظام مخالف اور ایک عالمی نوکریسی اور دین و مذہب کی خدائی تعلیمات کو چھوڑ کر صرف اور صرف عقلیت پسندی Rationality پر مبنی فرقہ بنانے جیسے نظریات شامل ہیں۔

 

جب کے 20ویں صدی کے دوران برطانوی نظرثانی کے مؤرخ نیسٹا ہیلن ویبسٹر اور امریکی سوشلائٹ ایڈتھ سٹار ملر نے یہ دعویٰ کیا کہ ایلومناٹی ایک تخریبی خفیہ معاشرا Secret society ہے جس نے یہودی اشرافیہ کی خدمت کی۔ جس نے دنیا کو تقسیم کرکے حکومت یعنی Divide & Rule کرنے کے لئے سرمایہ دارانہ نظام Capitalism اور روس میں کمیونزم Communism دونوں کو فروغ دیا۔

 

Illuminati کے مقاصد اور ان کا طریقہ کار

               اس دجالی سیکولر برادری کے مقاصد کی اگر بات کی جائے تو ان کا اولین مقصد ہے پوری دنیا کو سیکولرائیز کر کے یعنی بے دین کرکے وہاں اپنا آرڈر یعنی یہودی نیوورلڈ آرڈرقائم کرنا اور لوگوں کو سیکولرزم اور لبرلزم کے دائرے میں لانا ہے۔ اور ان کی معیشت کو سود ، جوئے اور سرمایاداری کے دائرے میں لانا جو یہودیوں کی اصل رگ جاں ہے تا کہ جائز ناجائز کو پس پشت ڈال کر لوگوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے اور ان کا معاشی استحصال کیا جاسکے اور سرمایہ دار ہر قسم کے ناجائز ذرائع سے اپنے سرمائے میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کر سکیں اس کے علاوہ عورتوں کو  ہر طرح کی لامحدود آزادی دینا اور ان کو ہر طریقے سے مرد کے برابر کرنا۔۔ اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سیکولر بنانا تاکہ جمہوری نظام کی وجہ سے وہاں کی حکومت ایک سیکولر پارٹی کو ملے کیونکہ ظاہر ہے جب زیادہ لوگ سیکولر ہوں گے تو حکومت بھی سیکولر پارٹی کی ہی آئے گی۔ اور لوگوں کو ان کی مذہبی کتاب سے دور رکھنا خاص طور پر مسلمانوں کو قرآن سے تا کہ ان کو کچھ پتا ہی نا چل سکے اور ان کا غلبہ برقرار رہے۔ اور مختلف دجالی طریقوں سے معاشرے میں خدا سے اور مذہب سے بےزاری پیدا کرنا خاص طور پر اسلام اور قرآن و سنت سے حقارت پیدا کرنا۔ جبکہ ایک اصل اسلامی نظام تو ہر ناجائز کام، برائی، ظلم، اور استحصال کی نفی کرتا ہے۔

 

ان کا طریقہ کار: الومیناٹی کو انسانی ذرائع یعنی Man-power کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے وہ نچلے درجے پر On field کام کرنے کے لئے ایجنٹس Agents بھرتی کرتے ہیں جو زیادہ تر جرائم پیشا افراد ہوتے ہیں۔ یہ خود پیچھے رہ کر Front-organizations یعنی کنٹرولڈ اداروں کا استعمال کرتے ہیں جو زیادہ تر ریاستی ادارے ہوتے ہیں اور بعض ممالک میں کوئی سیاسی پارٹی ہوتی ہے اور بعض مماملک میں مختلف سرمایہ دار افراد کے کرمنل گینگز ہوتے ہیں جو ان کے لئے یعنی الومیناٹی کے لئے کام کرتے ہیں یعنی جس ملک میں جو گروہ زیادہ طاقتور اور ان کا خاص ہو وہ لیڈ کرتا ہے۔ اور ان کو ریاست اور حکومت کی مکمل سپورٹ حاصل ہوتی ہے اور جن ممالک میں ان کو سپورٹ حاصل نہ ہو یا وہاں ان کا نظام یعنی نیوورلڈ آرڈر کا غلبہ نہ ہو تو ادھر امریکہ ، نیٹو یا یونائیٹڈ نیشن United-nations کی کسی مشترکہ فوج کے ذریعہ کوئی بہانا بنا کر حملے کے ذریعے یا وہاں خانا جنگی کروا کر یا کسی اور ذریعے سے اس حکومت کا تختہ الٹا کر اپنی کٹپتلی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو وہاں بٹھا کر ان کو یعنی الومناٹی کو سپورٹ حاصل کروائی جاتی ہے۔

 

یہ لوگ ایسے انسان جو غافل اور سادہ لو ہوتے ہیں ان کو مختلف اداروں اور گروپس کی آڑ میں سیکرٹ سوسائٹی میں بھرتی کرتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کےوہ کوئی بہت ہی اعلٰی کام سرانجام دے رہے ہیں اور ان سے جھوٹ بول کر ان کو آرڈر اور ڈسپلن کی آڑ میں نیوورلڈ آرڈر اور غلط کاموں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے(یاد رہے کے ایسے ہر قسم کے آرڈرز اور ڈسپلنز جو قرآن و سنت ،اسلام کے خلاف ہوں وہ شیطانیت  اور شرک ہیں)۔

 

اور لوگوں کو میڈیا Media کے ذریعے سے اور ہالی وڈ اور بالی وڈ کی ایکشن فلموں اور ڈراموں کے ذریعے خوش فہمی کا شکار کرکے ایسے گروہوں میں جانے کا چسکا لگوایا جاتا ہے اور ایسے انسان جو ظالم اور نفس پرست قسم کے ہوتے ہیں جن کا مقصد صرف دنیا کی عیش و عشرت کا حصول ہوتا ہے اور وہ ان میں شامل ہوجائیں تو وہ ان کے خاص لوگ ہوتے ہیں اور ان کو اپنی اصلیت بتا کر سیکرٹ سوسائٹی کا حصہ بنایا جاتا ہے اور ان کو ہر طرح کی عیش و حرام،سہولیات،معاشرتی فائدے اور مکمل آزادی فراہم کی جاتی ہے لیکن ان لوگوں کو پھر ان کا ہر حکم ماننا ہوتا ہے چاہے دن ہو یا رات ہو چاہے اسلام و شریعت کے خلاف ہوچاہے وہ قتل، ڈاکا، چوری یا شرک ہی کیوں نا ہو ان کو بس یس سر  یا  یس باس کہنا ہے یعنی ’’ کلی عبادت ‘‘ کرنی ہوتی ہے وہی کلی عبادت جو اللہ کی کرنی چاہیے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اپنے بندوں کو لیکن اگر انسان اللہ کی کتاب ہی نہیں پڑھے گا اور اس کے رسول کی اتباع ہی نہیں کرے گا تو اس کو یہ سب کیسے معلوم ہوگا اور اسے سحی غلط کیا معلوم ہوگا۔اور ایسے لوگ اگر ایک بار ان کا حصہ بن جانے کے بعدان کا حکم نا مانیں یا وہ سیکرٹ سوسائٹی چھوڑنا چاہیں تو ان کو پھر قتل کردیا جاتا ہے۔

 

مسلمان ملکوں میں یہ لوگ بہت ہی خفیہ طریقے سے کام کرتے ہیں اور زیادہ تر کسی کنٹرولڈ اداروں یعنی Front-organizations کا استعمال کرتے ہیں تا کہ کسی کو شک نہ ہو۔اور عوام کو اس نظام میں ہی چھوٹی موٹی چیزوں میں الجھا کے رکھا جاتا ہے تا کہ لوگ ان ہی چیزوں میں الجھے رہیں اور اوپر کی جو اصل بڑی خرابی ہےیعنی یہ ’’ نظام‘‘ جو سارے فساد کی جڑ ہے اس پر عوام کا دہان ہی نہ جائے۔ اور جھوٹے بہرانوں،واقعات،بیانوں کے ذریعہ سے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے اور عوام کی رائے کو اس نظام کے دائرے میں ہی کسی ایک چیز پر متفق کیا جاتا ہے یعنی کسی بات کا بتنگڑ بنا کر اس کو بڑا چڑھا کے عوام کو بڑے پیمانے پر بیوقوف بنایا جاتا ہے اور اس ڈرامے میں میڈیا ، پولیٹکل پارٹیز، اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن سب شریک ہوتے ہیں اور ان کا مقصد سیکولرزم،سرمایاداری اور سیکولر جمہوریت کو ڈیفنڈ کرنا ہوتا ہے۔ اور مذہب کے معاملات میں بھی اسی طرح لوگوں کو چھوٹی موٹی چیزوں میں الجھا کے رکھا جاتاہے۔

 

اور ان مسلمان ملکوں میں یہ لوگوں کو صرف آدھے اسلام پر عمل کرنے دیتے ہیں یعنی صرف مذہب والے حصے پر اور ان کی کوشش ہوتی ہے کے اس مذہب والے حصہ سے بھی لوگوں کو ہٹا دیا جائے۔ اور دین کے صرف اس حصے پر عمل کرنے کی اجازت دیتے ہیں جو ان کے نظام میں موجود کسی چیز کے خلاف جیسے سود،جوا،سرمایہ داری،ان کے عدالتی نظام اور قوانین یا سیکولر نظام کے خلاف نا ہو اور صرف انفرادی معاملات سے متعلق ہو۔ اور بعض ملکوں میں تو مساجد کے امام بھی ان کے کنٹرولڈ امام ہوتے ہیں اور ان ہی کہ اشاروں پر چلتے ہیں یہاں تک کے جمعے کے خطبے میں بھی ان کو کسی ایسی بات کی اجازت نہیں ہوتی جو حکومتی سطح پر سود،سرمایہ داری،سیکولرزم،جمہوریت کے خلاف ہو یا جہاد فی سبیل اللہ کے موضوع پر ہو۔ جو مسلمان اس نظام کو سیکولرزم کو جانتے بھوجتے خوشی سے دل سے تسلیم کرلیں اور اس کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد نا کریں یا کم سے کم وہ لوگ پروٹیسٹ نا کریں تو ایسے مسلمانوں کو اللہ نے قرآن میں منافقوں اور کافروں سے تشبیہہ دی ہے اور آخرت میں اپنے عذاب کی وعید سنائی ہے۔

 

جس علاقے میں اسلام پسند ،دین پر چلنے والے مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہواور وہ سیکولرزم Secularism کو ناپسند کرتے ہوں ، اس نظام کے خلاف ہوں توان مسلمانوں پر مختلف جھوٹے الزامات لگا کر اپنی بٹھائی ہوی سیکولر اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے سے فوجی آپریشن کروا دیا جاتا ہے اور ان کو بدنام کر کے ان کا قتل عام کیا جاتا ہے اور پھر ایک سیکولر پارٹی ان کا مسیحا بن کر آجاتی ہے اور ان کو اس ظالم فوج کے ظلم و جبر سے آزادی دلانے کا وعدہ کرتی  ہے لیکن اس شرط پر کے وہ لوگ اس سیکولر پارٹی کے حمایتی  بن کر  کے ان کی چھتری تلے آجائیں۔

 

اس کے علاوہ Mass surveillance یعنی بڑے پیمانے پے عوام پر نظر رکھی جاتی ہے جو ایجنٹوں ،سی سی ٹی وی اور موبائل کیمروں اور مختلف جدید طریقوں سے لوگوں پر نظر رکھی جاتی ہے اور ان کو اس ظالمانا نظام کے دائرے میں کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اور ہر انسان کو اس کے عقیدے اور نظریہ کے مطابق کنٹرول کیا جاتا ہے جیسے کہ اگر کوئی مسلمان ہو تو اس کے دعاوں اور اذکار پر نظر رکھ کر اس نظام کے مفاد کہ مطابق خفیہ طریقے سے جزا اور سزا دینا اور یہ ظاہر کرانا کے یہ سیدھا اللہ نے کیا ہے  (جو کے ایک حرام کام ہے جو ایک طریقے سے خدائی کا دعوہ کرنا ہے اور اسلام میں تو ریاست کی طرف سے خفیہ اور دجالی طریقے سے کسی بھی طرح کی سزا دینے کا حکم نہیں ہے بلکہ کھلم کھلا شرعی سزائیں ہیں جو کسی انسان کو اس کے جرم کے مطابق دی جاتی ہیں جیسے اگر کسی نے کوئی جرم یا گناہ بھی کیا ہو تو اس کو گرفتار کرکے اسلام کے مطابق سزا دی جائے گی اور اس کے لئے اسلامی نظام کا ہونا ضروری ہے)  یعنی انسانوں پر ظلم کرنا اور اس کا الزام اللہ پے لگا نا اور اللہ پے جھوٹ باندھنا (جس کا مقصد مسلمانوں کو اللہ کے ذکر اور اللہ کی یاد سے یعنی نماز سے  اور قرآن کو سمجھ کر عمل کرنے   سے روکنا ہوتا ہے )۔

اور ایسے دجالی لوگوں کا غلبہ اور ان کا یہ سب کرنا یہ اللہ کا ہی عذاب ہے جیسا کے اوپر تیسری مثال کے آخر میں ’’عذاب کی وجہ‘‘ کی ہیڈنگ میں تفسیل سے بیان ہوچکا ہے کہ یہ سب ہماری غفلت،بدعملی اور بے عملی کی وجہ سے اللہ کا عذاب ہے جو کسی مسلمان امت پر ایک ساتھ اجتماعی طور پر آتا ہے جیسے ہم سے پہلے یہودیوں پر آیا کرتا تھا جب وہ ایک مسلمان امت تھی اور آج کے دور میں وہ اپنی بد عملیوں اور ظلم کی وجہ سے ایک ملعون اور شیطان کی اسسٹنٹ قوم بن چکی ہے۔اللہ ہم تمام مسلمانوں کو ان جیسا بننے سے بچائے آمین۔

 

اور اگر لوگ کوئی حق کی بات کریں، یا قرآن پر اللہ کے کسی ایسے احکام پر عمل کرنا چاہیں جو ان کے نظام کے خلاف جاتا ہو تو پھر اسی نقلی عذابوں کے ذریعے ان جیسے لوگوں کا جینا مشکل کردیا جاتا ہے اور ان پر مختلف Social control کے طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جن میں :

(Guilt,Shame,Fear-tactics) (Emotional-Blackmailing) (Horror-and-terror) (Moral-panic) (Narcissism-in-the-workplace) (Toxic-workplace) (Propaganda) (Strategy-of-tension) (Tactics-of-terrorism&Fear)

جیسے طریقے استعمال کرتے ہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت سے طریقے ہیں جو یہ لوگ انسانوں پر ظلم کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔



Taqdeer Aur Dajjaliat PDF Book

By:Amjad Siddiq Kohistani
Download

Post a Comment

0 Comments