Ad Code

Responsive Advertisement

Iss Tasneef Se Mutaliq Kuch Qurani Aayaat Aur Ahadees

 


اس تصنیف سے متعلق کچھ قرآنی آیات اور احادیث

قرآن

’’ اور اے نبی ہر گز راضی نہ ہوں گے آپ سے یہ یہودی اور عیسائی جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہ کریں ، کہہ دیجیے کے ہدایت تو صرف اللہ کی ہدایت ہے ، اور اگر آپ نے ان کے خواہشوں کی پیروی کی اس علم کے بعد جوآپ کے پاس آ چکا ، تو نہیں ہوگا اللہ کے مقابلے میں آپ کا کوئی مدد گاراور نہ حمایتی ۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہےوہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسے کے اسکی تلاوت کرنے کا حق ہے ، وہی ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ، اور جو اس کا کفر کرے گا تو وہی لوگ ہیں خسارے میں رہنے والے ۔ [البقرا:۱۲۰ سے ۱۲۱]‘‘

 

’’ کیا کافروں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ میرے ہی بندوں کو میرے ہی مقابلے میں اپنا مددگار بنالیں گے ، یقینًا ہم نے تیار کر رکھا ہے جہنم کو ایسے کافروں کی مہمانی کے لئے ۔ آپ کہیے کیا ہم تمہیں بتا ئیں کہ سب سے زیادہ خسارے میں کون لوگ ہیں ۔ وہ جن کی تمام کوششیں دنیا کی زندگی میں گم ہو گئیں اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ کوئی اچھا کام کر رہے ہیں ۔ [الکہف:۱۰۲، ۱۰۳، ۱۰۴]‘‘

 

’’ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جواللہ کی مسجدوں کو روکے اس میں اللہ کا نام لیے جانے سے ، اور وہ ان کی خرابی کے درپے ہو ، ایسے لوگوں کو تو ان میں داخل ہی نہیں ہونا چاہیے مگر ڈرتے ہوئے ۔ [البقرا:۱۱۴]‘‘

 

’’ اے اہل ایمان یقینًا شراب اور جوا اور بت اور پانسے یہ سب گندے کام ہیں شیطان کے عمل میں سے تو ان سے بچ کر رہو تاکہ تم فلاح پاو ۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کردے شراب اور جوے کے ذریعے سےاور تمہیں روکے اللہ کی یاد اور نماز سے تو اب باز آتے ہو یا نہیں ۔ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور بچتے رہو ، پھر اگر تم پیٹھ موڑ لوگے تو جان لو کہ ہمارے رسول پر تو زمہ داری ہے بس صاف صاف پہنچا دینے کی ۔ [المائدہ:۹۰، ۹۱، ۹۲]‘‘

 

’’ تو کیا تم کتاب (شریعت) کے ایک حصے کو تو مانتے ہو اور ایک کو رد کرتے ہو تو جو لوگ بھی تم میں سے یہ طرز عمل اختیار کریں گے ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں وہ ذلیل و خوار کردیئے جائیں اور قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں جھونک دیئے جائیں گےاور اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں جو تم کررہے ہو ۔ [البقرا:۸۵]‘‘

 

’’ حکم صرف اللہ ہی کا ہے ۔ [یوسف:۴۰]‘‘


’’بے شک اللہ کے یہاں دین صرف اسلام ہی ہے۔ [عال عمران: ۱۹]‘‘ (زرا سوچیں کہ وہ اللہ جس نے اس دنیا اور کائنات کے پیچیدہ اور مختلف قسم کے نظام اور مختلف سائنٹفک اور فزکل قوانیں بنائیں ہیں جن کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور اسی اللہ نے انسانوں کے لئے دین اور شریعت کا نظام بھی بنایا ہے جس کو مسلمان چھوڑ کر انگریزوں اور یہودیوں کے طاغوتی نظاموں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ یہ کتنی بڑی نا شکری ہے۔ )

احادیث نبویﷺ

’’ حضرت حذیفہؓ روایت کرتے ہیں : نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جہنم کے دروازوں پر کچھ لوگ دعوت دینے والے موجود ہوتے ہیں جو شخص ان کی دعوت قبول کر لیتا ہے وہ اسے اس جہنم میں پھینک دیتےہیں ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ آپؐ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجئے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا : وہ لوگ ہم ہی سے تعلق رکھتے ہوں گے ہماری ہی زبان بولتے ہوں گے۔ میں نے عرض کی : اگر ان کا زمانہ مجھے مل جاتا ہے تو آپؐ مجھے کیا ہدایت کرتے ہیں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا : تم مسلمانوں کی جماعت (یعنی خلافت یا ایک مکمل اسلامی تنظیم جو کسی طاغوتی نظام کا حصہ نہ ہو) اور ان کے امام (یعنی خلیفہ یا امیر المومنین جس کے ہاتھ پر بیعت کی گئی ہو) کو لازم پکڑ لینا،اگر مسلمانوں کی جماعت اور امام نہ ہوا تو ان تمام فرقوں سے الگ ہوجانا خواہ تمہیں بھوک کی شدت کی وجہ سے درخت کے تنے کو کاٹ کر کھانا پڑے یہاں تک کے جب تمہیں موت آئے تو تم اسی حالت میں ہو یعنی ان لوگوں سے الگ تھلگ ہو۔ [سنن ابن ماجہ ج۶ رقم الحدیث : ۳۹۷۹]‘‘ :::

 

’’ حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص گمراہی کہ جھنڈے کے نیچے جنگ میں حصہ لیتا ہے وہ عصبیت (یعنی قوم پرستی) کی طرف دعوت دیتا ہے،وہ عصبیت کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے (یعنی جنگ کرتا ہے) تو اس کا قتل زمانہ جاہلیت کا قتل ہوگا (یعنی کفر پر قتل ہوگا)۔ [سنن ابن ماجہ: ۳۹۴۸]‘‘ :::

 

’’ عباد بن کثیر اپنے علاقے کی ایک خاتون فسیلہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ کہتی ہیں، میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ سے یہ سوال کیا ،میں نے عرض کیا ، یہ بات عصبیت (یعنی قوم پرستی) میں شامل ہوگی کہ آدمی اپنی قوم سے محبت رکھے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نہیں! عصبیت میں یہ بات شامل ہوگی کے آدمی کسی ظلم کے بارے میں اپنی قوم کی مدد کرے۔ [سنن ابن ماجہ : ۳۹۴۹]‘‘ :::

 

’’ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ [سنن ابن ماجہ:۳۹۳۹]‘‘ :::

 

’’ حضرت ابو موسٰی الشعریؓ روایت کرتے ہیں : نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : جب دو مسلمان تلوار لے کے ایک دوسرے کہ مدمقابل آتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جاتے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ قاتل تو ٹھیک ہے لیکن مقتول کا کیا معاملہ ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : وہ بھی اپنے (مسلمان) ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا( لیکن نہ کرپایا)۔ [سنن ابن ماجہ: ۳۹۶۴]  ‘‘:::

(یعنی اگر دو مسلمان دنیا کےلئے ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لئے آجائیں تو دونوں جہنمی ہوں گے ۔ آج اگر دیکھا جائے تو مسلمان دنیاوی فائدوں کے حصول کے لئے یا نسل اور عصبیت کو بنیاد بنا کر اور یا مختلف طاغوتی نظاموں کے ساتھ مل کےیا اقتدار کے حصول کے لئے اور ذاتی بغذ و عناد کی بنیاد پر ایک دوسرے سے لڑ تے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں جب کہ ان میں سے اکثر کو مسلمان لفظ کا معنٰی بھی نہیں پتا ہوتا۔ جب کے ان کو آپس میں ایک ہوکے دین اسلام کو سیکھنے اور غالب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کافروں کے غلبے سے اپنے آپ کو آزاد کرنا چاہیے جس کے لئے قرآن سے واقف ہونا لازمی ہے۔ )

 

’’ حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت دوسرے مسلمان کے لئے قابل احترام ہیں ۔ [سنن ابن ماجہ : ۳۹۳۳]‘‘ :::

 

’’ حضرت ابو موسٰی الشعری ؓ روایت کرتے ہیں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: قیامت سے پہلے کچھ ایسے فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑے کی مانند ہوں گے ان میں صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوچکا ہوگا اس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ،تو ایسے وقت میں تم لوگ اپنی کمانوں کو توڑ دینا ،کمان کی تاروں کو کاٹ دینا اور اپنی تلواریں پتھروں پر مار کر (ناکارا کر دینا) اگر کوئی شخص تم میں سے کسی ایک کے گھر میں اسے قتل کرنے کے لئے داخل ہو،تو اسے چاہیے کہ وہ آدم کے دو بیٹوں (حابیل اور قابیل) میں سے بہتر والے کی مانند ہوجائے (یعنی قاتل کو قتل کرنے کا موقع دے )۔ [سنن ابن ماجہ: ۳۹۶۱]‘‘ :::

(اگر کسی جگہ کلمہ گو مسلمان دنیا کے لئے ایک دوسرے کو قتل کررہے ہوں ،ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہوں ،ایک دوسرے کو حرام اور غلط کام کرنے پر مجبور کر رہے ہوں اور یہ سب یہ لوگ قرآن،اسلامی تعلیمات اور دین سے غافل ہونے اور جہالت کی وجہ سے کر رہے ہوں تو ان میں سے ہر گز کسی کا بھی ساتھ نہیں دینا چاہیے اور قتل اور فساد میں ملوث نہیں ہونا چاہیے، اپنے ہاتھ اور زبان کو روکے رکھنا چاہیے،صبر کرنا چاہیے، چاہے کوئی قتل ہی کیوں نہ کردے۔ اگر وہاں کوئی ایسے مسلمان لوگ جو حق پر ہوں،مکمل اسلام پر عمل پیرا ہوں، کسی حرام معاملات میں ملوث نہ ہوں، جن کا مقصد دنیا کا حصول نہ ہو اور اللہ کی رضا ہو، مسلمانوں کوقتل اور ان پر ظلم کرنے میں شامل نہ ہوں اور اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتے ہوں تو ان لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ اور اگر ایسے لوگ موجود نہ ہوں اور اس جگہ سے اگر نکلنا ممکن ہو تو جلد سے جلد نکل جانا چاہیے اور کسی ایسی جگہ چلے جانا چاہیے جہاں اللہ کا دین غالب ہو اور فتنہ نا ہو۔ اور اگر اس جگہ سے نکلنا ممکن نہ ہو یا دنیا میں کہیں پر بھی اللہ کا دین غالب نہ ہو تو ایسے تمام گروہوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہیے ،صبر کرنا چاہیے اور حرام امور سے بچ کر رہنا چاہیے اور اپنی استطاعت کے حساب سے اللہ کے دین کو غالب کرنے کی جدو جہد کرنی چاہیے اور جو غافل ہیں ان کو بھی حالات کی سنگینی کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ )

 

’’ حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں: نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے،میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک لڑائی کرتا رہوں ،جب تک وہ یہ اعتراف نہیں کر لیتے کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں جب وہ یہ اعتراف کر لیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور عبادت کے لائق نہیں ہے، تو وہ مجھ سے اپنی جانیں اور اموال محفوظ کر لیں گے،البتا ان کے حق کا حکم مختلف ہےاور ان لوگوں کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا۔ [سنن ابن ماجہ:۳۹۲۶]‘‘ :::

(یہاں یہ بات نوٹ کر لیجئے کے لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کا متذکرہ بالا حکم عام حکم نہیں ہے بلکہ یہ خاص مشرکین کا معاملہ تھا۔ اس ضمن میں سورۃالتوبہ کی ابتدائی چھ آیات کو سجھنے میں بھی اکثر لوگوں کو بہت مغالطہ ہوا ہے۔ یہ مقام قرآن مجید کے مشکل مقامات میں سے ہے جس کو بہت کم لوگوں نے صحیح طور پر سمجھا ہے ۔۔۔ سورۃ التوبہ کی ابتدائی چھ  آیات میں جو حکم وارد ہوا ہے کے ایمان لے آو یا پھر قتل کردیے جاو گے، تو دشمنوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ حالانکہ یہ خاص بنی اسماعیل کے لئے حکم تھا جن کی طرف رسول اللہ ﷺ کی خاص بعثت ہوئی تھی کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو اللہ کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔ یہ اللہ کی ایک خاص سنت رہی ہے [جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے] کہ جس قوم کی طرف کسی رسول کو بھیج دیا جاتا اور وہ دعوت اور تبلیغ کے ذریعے سے اتمام حجت کر دیتے، لیکن پھر بھی وہ قوم ایمان نہ لاتی تو وہ حلاک کردی جاتی قوم نوحؑ، قوم ہودؑ، قوم صالحؑ، قوم لوطؑ، قوم شعیبؑ اور عال فرعون یہ سب قومیں اسی قانون کے تحت ہلاک کی گئیں۔۔۔ تو اس حدیث میں جو بات بیان ہورہی ہے وہ عام نہیں ہے بلکہ اسی خاص پس منظر میں بیان ہو رہی ہے ۔۔۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت مشرکین عرب کے لئے خاص تھی اور تمام عالم انسانی کے لئے عام تھی۔ [بحوالہ ڈاکٹر اسرار احمد کی کتاب اربعین نوویؒ : حدیث نمبر 43 حکمت دین کا عظیم خزانہ : حصہ اول کی تشریح : صفحہ نمبر ۱۲۳ : جلد اول] 

[اس کے علاوہ اس حدیث کو اگر ظاہری اعتبار سے لیا جائے تو اسلامی ریاست میں جو غیر مسلموں کے حقوق ہیں جو کہ قرآن اور احادیث دونوں میں مذکور ہیں تو ان پر بھی اس کی ضرب پڑھتی ہےاور جیسا کے معلوم ہے کہ قتال صرف اقامت دین کی جدوجہد کرنے والی ایک ایسی جماعت جس کے پاس اتنی افرادی قوت جمع ہوچکی ہو جس سے اسلامی انقلاب کامیابی کے ساتھ عمل پذیر ہونے کا امکان ممکن نظر آتا ہو وہی کر سکتی ہے اور اگر اسلام کا غلبہ ممکن نا ہو تو اس صورت میں خالی قتال محض فساد کے اور کچھ نہیں ہےاور نہ صرف فساد ہے بلکہ اس سے الٹا اسلام ہی بدنام ہوتا ہے۔ اور دوسری صورت میں ایک مکمل اسلامی ریاست اگر قائم ہو چکی ہو جس کے پاس اتنی طاقت جمع ہوگئی ہو اور قتال کے علاوہ اور کوئی راستہ نا ہو تو وہ قتال فی سبیل اللہ کرسکتی ہے]

 

’’ قیس بن ابو حازم بیان کرتے ہیں: حضرت ابو بکر ؓ کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ تعالٰی کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمانے لگے : اے لوگوں تم یہ آیت تلاوت کرتے ہو ’’اے ایمان والوں تم پر اپنی ذات کا خیال رکھنا لازم ہےجب تم ہدایت یافتہ ہو تو گمراہ شخص تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ‘‘ پھر حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا : جب لوگ منکر کو دیکھ کر اس کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے ،تو عنقریب ایسا ہوگا کہ اللہ سب پر اپنا عذاب نازل کرے گا۔ ابو اسامہ نامی ایک راوی نے الفاظ نقل کئے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے فرایا کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ فرماتے ہوے سنا۔ [سنن ابن ماجہ ج۶ رقم الحدیث : ۴۰۰۵]‘‘ :::

 

’’ حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ:اللہ کے حدود (یعنی شریعت) قائم کرنے والے اور اللہ کے حدود کی خلاف ورزی کرنے والے (ترمزی کی روایت میں ہے کہ اللہ کے حدود نافذ کرنے میں سستی اور نرمی کرنے والے) کی مثال اس طرح ہے کہ ایک قوم نے کشتی میں بیٹھنے کے لئے قرعہ اندازی کی ،تو بعض لوگوں کے نام اوپر کی منزل کا قرعہ نکلااور بعض لوگوں کے نام نچلی منزل کا۔ نچلی منزل والے پانی لینے اوپر کی منزل پر گئے پھر انہوں نے کہا کے اگر ہم کشتی کے پیندے میں سراخ کر کے سمندر سے پانی لے لیں تو اوپر کی منزل والوں کو زحمت تو نہیں ہوگی۔ اگر اوپر کی منزل والوں نے ان کو اپنا ارادہ پورا کرنے کے لئے چھوڑ دیا تو وہ سب ڈوب کر حلاک ہو جائیں گے اور اگر انہوں نے ان کے ہاتھوں کو سراخ کرنے سے روک دیا تو وہ بھی نجات پالیں گے اور نچلی منزل والے بھی۔ [صحیح البخاری رقم الحدیث:۲۴۹۳، ۲۶۸۳ ـ سنن ابن ماجہ ج۶ : کتاب الفتن]‘‘ :::

 

’’ امام ابو داود سلیمان بن اثعث روایت کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ :رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ : بنی اسرائیل(یعنی یہودیوں) میں سب سے پہلی خرابی یہ واقع ہوئی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملاقات کر کے یہ کہتا اے شخص! اللہ سے ڈر،اور جو (حرام) کام تو کررہا ہے اسے چھوڑ دے،کیونکہ یہ کام تیرے لئے جائز نہیں ہے۔ پھر جب دوسرے دن اس سے ملاقات کرتا، تو اس کا وہ (حرام ) کام اس کو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے سے منع نہ کرتا۔ جب انہوں نے اس طرح کیا تو اللہ تعالٰی نے ان کے دل ایک جیسے کردیے۔ پھر اللہ تعالٰی نے فرمایا بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا ان پر داود ؑ اور عیسا ؑ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیوں کے انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو ان برے کاموں سے نہیں روکتے تھے جو وہ کرتے تھے اور جو کچھ وہ کرتے تھے وہ بہت ہی برا کام تھا (المائدہ ۷۸، ۷۹)۔ پھر آپؐ نے فرمایا ہر گز نہیں! بہ خدا تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا اور تم ضرور ظلم کرنے والے کے ہاتھوں کو پکڑ لینا ، اور تم ضرور اس کو حق پر عمل کرنے کے لئے مجبور کرنا،ورنا اللہ تمہارے دل بھی ایک جیسے کردیگاپھر تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح ان (بنی اسرائیل) پر کی تھی۔ [سنن ابو داود ج۳ رقم الحدیث:۴۳۳۶ ، ۴۳۳۷ ـ سنن ابن ماجہ ج۶ : کتاب الفتن]‘‘ :::

 

’’ حضرت نعمان بن بشیر ؓ نے ممبر پر یہ بات بیان کی انہوں نے اپنی دوانگلیوں کے زریعے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہےان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، جن سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں،تو جو شخص مشتبہ چیز سے بچ جاتا ہے وہ اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیتا ہے اور جو شخص مشتبہ چیز میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے ، جس طرح چراگا ہ کے ارد گرد چرانے والے شخص کے بارے میں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ کے اندر ہی (جانور) چرانے لگے یاد رکھنا ! ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہےاور یہ یاد رکھنا اللہ تعالٰی کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردا اشیاء ہیں یاد رکھنا ! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو تو پورا جسم ٹھیک ہوتا ہے اور اگر وہ خراب ہو تو پورا جسم خراب ہوتا ہے یادرکھنا! وہ دل ہے۔ [سنن ابن ماجہ:۳۹۸۴]‘‘ :::

 

’’ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہےکہ اللہ تعالٰی جب کسی قوم پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو جو لوگ بھی اس قوم میں ہوں (یعنی نیک بھی اور بد بھی)، ان سب کو عذاب پہنچتا ہے پھر ان کو ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جاتا ہے۔ [صحیح البخاری رقم الحدیث : ۷۱۰۸ ـ سنن ابن ماجہ ج۶ : کتاب الفتن]‘‘ :::

 

’’ حضرت اُم درداؓ حضرت ابودرداءؓ کا قول نقل کرتی ہیں : میرے خلیل (یعنی نبی کریمﷺ) نے مجھے یہ تلقین کی ہے کہ : تم کسی کو خدا کا شریک نہ ٹھہرانا اگر چہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے ، تمہیں جلا دیا جائے، اورتم جان بوجھ کر فرض نماز نہ چھوڑنا،جو شخص بھی جان بوجھ کر اسے چھوڑے گا تو اس کا ذمہ (یعنی اللہ کی طرف کا ذمہ) ختم ہو جائے گا، اور تم شراب نہ پینا کیوں کے یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے۔ [سنن ابن ماجہ: ۴۰۳۴]‘‘

(اس حدیث میں شراب سے مراد شراب بھی ہے اور اس میں وہ ہر طرح کا نشا بھی آگیا جو انسان کو مد ہوش کر ے یا نشے کی عادت میں مبتلا کرے جیسے کہ چرس،کوکین،سگرٹ وغیرہ۔ کیوں کہ اگر کوئی انسان جو کسی نشے کی عادت میں مبتلا ہو وہ اپنے نشے کے لیے ہر برا عمل کرتا ہےاور ایسے انسان کو کوئی بھی اپنی مٹھی میں کر کے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ )

 

’’ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں لوگوں پر کئی برس ایسے آئیں گے جن میں دھوکہ دینے والے لوگ زیادہ ہوجائیں گے ، اس زمانہ میں جھوٹ بولنے والے کو سچا کہا جائے گا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا ،اس میں خیانت کرنے والے کو امین قرار دیا جائے گا اور امین کو خیانت کرنے والا قرار دیا جائے گا،اس میں روبیضہ گفتگو کیا کرے گا ، دریافت کیا گیا : روبیضہ سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں ﷺ نے بتایا کہ: ایسا شخص جو کسی بھی کا م کا نہ ہو۔ [سنن ابن ماجہ: ۴۰۳۶]‘‘ :::

(کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث پاک میں جو روبیضہ کا ذکر آیا ہے اس سے مراد ٹی وی چینلوں اور سوشیل میڈیا پر گفتگو کرنے والے صحافی، تجزیہ نگار اور اینکرز ہیں جن کا پیشا ہی گفتگو کرنا ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ )

 

[دور فتن سے متعلق احادیث کے مطالعہ کے لئے سنن ابن ماجہ کی جلد 6 میں کتاب الفتن کے باب کا مطالعہ کیجئے۔دور فتن کے موضوع پر سنن ابن ماجہ کا کتاب الفتن کا باب سب کتابوں سے طویل اور بہترین ہے سنن ابن ماجہ کی اردو میں جو تشریحات ہیں ان میں ’’علامہ محمد لیاقت علی رضوی‘‘ کی شرح بہت ہی قابل قدر ہے یہ جامعہ نعیمیا کے پڑھے ہوے ہیں  جو کہ مکمل سنی نظریات پر مبنی دارالعلوم ہے انہوں نے اس دور کے مطابق بہت اچھے طریقے سے احادیث کی تشریح کی ہے۔]


Taqdeer Aur Dajjaliat PDF Book

By:Amjad Siddiq Kohistani
Download

Post a Comment

0 Comments