Ad Code

Responsive Advertisement

New World Order Kia Hay?



New world order کیا ہے

نیو ورلڈ آرڈر یہودیوں کے پوری دنیا کے ممالک پر خفیہ طور پر مرحلہ وار غلبے کا نام ہے جو انہوں نے 1600ء کے بعد سے Cold war تک کے عرصے میں تمام دنیا کے ممالک کو’’ نسل پر مبنی‘‘ سیکولر ریاستوں Secular Nation States میں تقسیم کر کے برطانیہ اور امریکہ کو آلہ کار بنا کر کیا.

نیو ورلڈ آرڈر کے لفظ کا استعمال امریکا کی طرف سے Cold war کے بعد (کولڈ وار یعنی سرد جنگ امریکہ اور روس کے درمیان ہوی تھی اس کے بعد امریکہ Super power بنا جو 1947 سے 1991 تک چلی تھی) اس کے بعد سے استعمال ہونا شروع ہوا مگر یہودیوں کے world order کی شروعات تب سے ہوگئی تھی جب یہود برطانیہ میں 1614ء میں سودی بینک یعنی Bank of England بنانے میں کامیاب ہوئے اور اس طرح برطانیہ کو سود میں جکڑ کر اس کی معیشت کو کنٹرول کر کہ برطانیہ پر پس پردہ قبضہ کرلیا (اس سے پہلے ہی یہ یورپ کے بڑے بڑے عیسائی ملکوں جیسے جرمنی، فرانس، سویڈن کو بھی سود میں جکڑ کر ان کی معیشت پر قابض ہوچکے تھے اور بعد میں امریکہ میں بھی 1913ء میں Federal reserve bank بنانے میں کامیاب ہوئے جو کہ اصل میں ایک نجی بینک ہے اور اس میں فیڈرل کا لفظ ایک دھوکا ہے۔)۔  اس کے بعد برطانیہ نے Colonization کے ذریعے پوری دنیا کے ممالک پر قبضہ کرنا شروع کیا یہ لوگ جس ملک پر قبضہ کرتے اس ملک کی رہائشی قوم کو غلام بنا لیتے اور اپنی انگریز قوم کو وہاں آباد کرتے اور اس جگہ اور وسائل پر قبضہ کر لیتے اور جہاں کوئی قوم بغاوت کرتی اور ان کا بس پڑھتا تو پوری قوم کی نسل کشی کر ڈالتے جیسا کہ انہوں اسٹریلیا، نیوزیلینڈ، سَوتھ افریقہ، امریکہ اور کینیڈا کے ساتھ کیا ان علاقوں میں اب مقامی لوگ یا تو بہت ہی قلیل تعداد میں ہیں اور یا تو سرے سے ہیں ہی نہیں۔ اور جن ممالک میں یہ لوگ خود آباد نہ ہوسکے تو وہاں کی اقوام کے مذہبی عقائد کو Secularism یعنی بے دینی کے دائرے میں محدود کر کے اور اپنے سیکیولر اور Capitalism پر مشتمل حکومتی، معاشرتی اور معاشی نظام میں ڈھال لیتے اور جب وہاں سے جاتے تو اس علاقے میں Nation states یعنی نسل پر مبنی ریاستیں بنا کر وہاں پر اپنی مرضی کی سیکیولر عقائد کی پارٹیوں پر مشتمل کٹپتلی حکومتیں جن کا نظام سرمایادارانہ Capitalism ہو اور اس نظام کی حفاظت کے لئے یعنی سیکولرزم اور سرمایہ داری کی حفاظت کرنے والی اسٹیبلیشمنٹ (یعنی فوج، انٹیلجنس، بیوروکریسی، پولیس) اور عدلیہ بٹھا کر وہاں سے چلے جاتے۔

 

اس کے بعد پہلی جنگ عظیم World war 1 کے بعد 1922ء میں بادشاہتوں کا خاتمہ کروایا گیا اور ان علاقوں کو Secular Nation states میں تبدیل کر دیا گیا جس میں مسلمانوں کی ترک خلافت یعنی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ بھی ہوا اور اسے ترکی کے نام سے ایک مکمل سیکیولر Democratic نیشن سٹیٹ بنا دیا گیا جس کی سرحدوں میں یورپ کے بہت سے ممالک، شمالی افریقہ اور جزیرہ عرب جس میں فلسطین بھی ہے شامل تھے۔ ( فلسطین جو یہودیوں کی آبائی جگہ ہے اور جہاں سے ان کو نکلے ہوے کوئی دو ہزار سال ہوچکے تھے اور ان پر فلسطین میں آباد ہونے پر ان پر نازل کردا اللہ کی کتاب یعنی تورات Old Testament کے مطابق وہاں آباد ہونا حرام ہے اور قرآن کی سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر ۹۱ اور ۹۲ کے مطابق جس کا ترجمعہ ہے کہ ’’اور حرام ہے ہر اس بستی پر جس کو ہم نے حلاک کیا کہ (وہ لوٹ کر آئیں) اب وہ لوٹنے والے نہیں ہیں [۹۱] یہاں تک کے کھول دیے جائیں گے یاجوج اور ماجوج اور وہ ہر اونچائی سے پھسلتے ہوے چلے آئیں گے [۹۲]‘‘ یہودیوں کی پوری تاریخ کے بارے میں جاننے کے لئے ڈاکٹر اسرار احمد کی کتاب ’’سابقہ اور موجودہ مسلمان امتوں کا ماضی حال اور مستقبل اور مسلمانان پاکستان کی خصوصی ذمہ داری‘‘  کا مطالعہ بہت مفید ہوگا یہ کتاب بہت ہی معلوماتی کتاب ہے۔اور یاجوج ماجوج کون ہیں ان کے بارے میں جاننے کے لئے بیان القرآن میں سورۃ الکہف کی آیت نمبر ۹۵ کی تفسیر کا مطالعہ کریں اور یاجوج ماجوج یہودی بینکرز کی تاریخ جاننے کے لئے یو ٹیوب پر Yajooj Majooj کے نام سے اردو میں ایک ڈاکیومینٹری ہے جو سولا وڈیوز پر مشتمل ہے اور چینل کا نام Burk media ہے۔) ان سیکولر یعنی بے دین نسلی ممالک میں حکومتوں کا طریقہ انتخاب جمہوریت یعنی Democracyجس میں Election کے ذریعہ لوگوں کی اکثریت کے Votes کہ مطابق حکومتیں آتی ہیں لیکن یہ جمہوریت بھی ان ممالک میں کام کرتی ہے جہاں کے لوگوں کی اکثریت سیکولر بے دین لوگوں پر مشتمل ہو اور وہ مسلمان ممالک جہاں اسلام پسند یا اللہ کے مکمل دینِ اسلام پر عمل کرنے والے مسلمانوں Fundamentalists کی تعداد اچھی خاصی ہو ان ممالک میں Election اور Voting تو سوائے دھوکے اور فراڈ کے اور کچھ نہیں ہے کیوں کے عوام چاہے جتنے ہی ووٹ کسی پارٹی کو دے لیں لیکن دھاندلی کے ذریعہ الیکشن کا result اس پارٹی کے حق میں آئے گا جو زیادہ Secular اور Capitalist ہو اور برطانیہ یا امریکہ کی زیادہ وفادار ہو اور کوئی مذہبی پارٹی الیکشن کے ذریعہ کبھی بھی برسر اقتدار نہیں آسکتی۔

 

اس کے بعد دوسری جنگ عظیم(World war 2 1939-1945)سے پہلے اٹلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی یہ دو طاقتیں ابھری جنہوں نے اپنے ایک نظام یعنی Fascism جو ڈکٹیٹر شپ پر مبنی ہوتی ہے اس کے ذریعہ سے دنیا پر غلبا کرنے کی کوشش کی جو کہ یہودیوں کے world order کے مقابلے میں تھا اس کے ساتھ جاپان اور یورپ کے چند ممالک بھی جو نیو ورلڈ آرڈر کےخلاف اس جنگ میں لڑ رہے تھے۔ جس میں یہودیوں کے ہمایتی برطانیہ، امریکہ، سوویٹ یونین اور یورپ کےباقی تمام ممالک کی جیت ہوی۔ اسی دوران جب لگ بھگ پوری دنیا میں سیکولر نسلی ممالک وجود میں آچکے تھے تو یہودیوں نے برطانیہ اور امریکہ کے ذریعہ سے 1948ء میں فلسطین کے اندر اپنے لئے Israel کے نام سے ایک سیکولر نیشن سٹیٹ کے حصول کو ممکن بنایا (اس سے قبل ہی پہلی جنگ عظیم کے آغاز میں جب فلسطین کا علاقہ خلافت عثمانیہ سے انگرزوں نے لے لیا تھا تو اس دوران 1917ء میں یہود نے Balfour معاہدے کے ذریعہ وہاں آباد ہونے کی اجازت حاصل کرلی تھی اور وہاں آبادکاری Settlements شروع کردی تھیں) اور بعد میں عربوں کے ساتھ 1967ء میں لڑی گئی چھہ روزا جنگ Arab-Israel war میں جوردان، مصر اور شام کے علاقوں پر قبضہ کر کے اسرایئل کی سرحدوں کی توسیع بھی کرلی اور سب سے بڑی بات یہ کے فلسطین میں یوروشلم Jerusalem پر بھی یہ قابض ہو گئے جہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد عقصہ اور گنبد سخرا Dome of rock ہیں جہاں پہلے زمانہ میں جب یہ مسلمان تھے ان کی مسجد Temple of Solomon یعنی حضرت سلیمانؑ اور حضرت داودؑ کی مسجد تھی۔

 

دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ معاشی اور جنگی اعتبار سے بہت کم زور ہوگیا تھا اور اس کی پہلے جیسی اہمیت باقی نہ رہی تھی اور اب دنیا میں صرف دو طاقتیں یعنی Communism اشتراکی نظام کی علم بردار Soviet-union اورسرمایہ دارانہ نظام Capitalism (جو کہ یہود کی رگ جاں ہے) اس کی علم بردار USA یعنی امریکہ رہ چکی تھیں اور ان دو طاقتوں کے درمیان Cold war ہوی جس میں سوویٹ یونین کو 1990ء میں شکست ہوئی اور اس کے ساتھ ہی کومیونسٹ سوویٹ یونین کا خاتمہ ہوگیا اور اس کو Russian-federation میں تبدیل کردیا گیا۔ اور اس طرح امریکہ دنیا کی Supreme power on earth بن گیا اور یہودیوں کے سرمایہ داری اور سیکولرزم پر مبنی New world order کا علم بردار بن گیا یعنی کے ایک نیا world order جو اب امریکہ کو مل گیا جس کو پہلے برطانیہ Leed کر رہا تھا جس کا اعتراف سدر بش نے 2003ء میں War in Iraq میں سدام حسین کی روس کے مشابہ Socialist حکومت کو شکست کے بعد اپنے ایک خطاب میں بھی کیا۔

البتہ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جو اس New world order کی لعنت سے کچھ حد تک آزاد ہیں ان میں دو مسلمان ممالک شامل ہیں پہلا ملک ایران ہے جو 1979ء میں شیعہ اسلامی انقلاب کے بعد یہودیوں کے غلبے یعنی ایک سیکولر بادشاہت سے آزاد ہوا لیکن ایران چونکہ شیعہ اسلام پر مبنی ہے جن کا عقیدہ کچھ اعتبار سے ٹھیک نہیں ہے خاص طور پر اماموں کے مرتبہ کے متعلق جو ان کے باطل نظریات ہیں اور صحابہ کرامؓ میں سے کچھ کی کردار کشی کرنا اور اسلامی سیاسی فکر سے متعلق باطل نظریات وغیرہ لیکن کیا پتا آگے جا کر اللہ ان پر اس کے دین کے لئے جانیں قربان کرنے کی وجہ سے مہربان ہو جائے اور یہ لوگ کسی تجدید کہ ذریعہ اپنے عقائد سے باطل چیزیں نکال دیں تو اسلام میں یہ شیعہ سنی کی جو دراڑ ہے یہ ختم ہوجائے گی۔ اور دوسرا ملک افغانستان ہے جہاں 2021ء میں سنی اسلامی انقلاب آیا جو افغان طالبان نے امریکہ اور تمام یورپی ممالک کی مشترکہ فوج یعنی NATO جس میں ترکی بھی شامل ہے ان کو جنگ میں شکست دے کر اور ان کی بٹھائی ہوئی Secular اور Capitalist قوم پرست حکومت کو تلپٹ کر کے خالص اور مکمل اسلامی سیاسی، معاشی، اور معاشرتی نظام پر ’’عمارت اسلامی افغانستان‘‘ قائم کی اس سے پہلے بھی 1996ء میں افغان طالبان نے اپنی حکومت قائم کی تھی لیکن 2001ء میں امریکہ نے World trade center کو گرانے کا ڈرامہ کر کے War on terror کے نام پر NATO کے ساتھ افغانستان پر حملہ کردیا اور بیس سال تک وہاں افغان طالبان سے لڑتے رہے اور اپنی بٹھائی ہوئی منافق سیکولر حکومت کو پروٹیکٹ کرتے رہے۔ یعنی تمام برائے نام مسلمان ممالک میں سے صرف دو مسلمان ممالک نے اپنے ملکوں میں اللہ کا سچا اسلامی نظام نافذ کیا ہے۔ اس کے علاوہ دو غیر مسلم ملک ہیں جو یہودیوں کے New world order سے تو آزاد ہیں اور اس کے خلاف ہیں لیکن ان کا اپنا نظام بھی کفر، الہاد اور مادہ پرستی پر مبنی ہے یعنی کے Communism اور یہ دو کومیونسٹ ممالک چین اور شمالی کوریا ہیں جو آج کے دور میں یہودیوں کے غلبے سے آزاد ہیں۔ لیکن اپنے ہتھکنڈوں کے ذریعہ سے ان ممالک کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی ان کی کوششیں جاری ہیں۔ اور کچھ امور میں یہ مماملک بھی ان کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔

 

اس پورے نیو ورلڈ آرڈر کی ہیڈنگ کا مطالعہ کر کے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ یہودیوں نے انگریزوں کے ذریعے سےSecular Nation States بنوا کے چار چیزوں کو ان میں نافذ کروا کر پوری دنیا کے ممالک کو اپنے قبضے میں کیا اور وہ چار چیزیں ہیں سیکولرزم، جمہوریت، سرمایہ داری اور سود۔ اور یہی کام جب امریکا کے سپر پاور بننے کے بعد اس کہ حوالے ہوا تو یہ نیوورلڈ آرڈر کہلایا۔ (یاد رہے کہ جمہوریت کوئی بری چیز نہیں ہے اگر یہ سیکولرزم کے بغیر اور اسلام کے دائرے کے اندر ہو کیوں کہ یہ ایک جدید طریقہ انتخاب ہے اور جس ملک میں اسلام پر عمل کرنے والے اور اسلامی نظام کو سمجھنے والوں کی تعداد زیادہ ہو وہاں الیکشن اور اسلامی جمہوریت ہی ایک اچھا طریقہ ہے۔ لیکن بد قسمتی سے آج کے دور میں مسلمان ممالک میں بھی کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس میں اسلامی نظام کا علم رکھنے والے اور اسلام پر عمل کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو)۔


Taqdeer Aur Dajjaliat PDF Book

By:Amjad Siddiq Kohistani
Download

Post a Comment

0 Comments