ایمان سے متعلق کچھ اہم باتیں
جو انسان اللہ اور آخرت،فرشتوں،قرآن اور حضرت محمد ﷺ کو مانتا ہے تو اس میں اس کے دنیا کا بھی بھلا ہے اور آخرت کا بھی بھلا ہے۔ اور جو لوگ نہیں مانتے ہیں ان کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر یہ سب باتیں سچ نکلیں اور موت کہ بعد وہاں آنکھیں کھل گئیں تو پھر کیا ہوگا۔ تو بھلائی اسی میں ہے کہ ایمان لایا جائے اللہ کے احکام ہی کو مانا جائے اور صرف اسی سے ڈرا جائے اور جہنم کے ہمیشہ کہ عذاب سے اپنے آپ کو بچایا جائے۔ انسان دنیا میں کتنا جی لے گا ۷۰ سال، ۸۰ سال یا زیادہ سے زیادہ ۱۰۰ سال لیکن آخر میں تو مرنا ہی ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے ادھر دوبارا موت نہیں آئے گی جیسے کہ سورۃ الاَنعام میں اللہ تعالیٰ کلام فرماتے ہیں کہ:
اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے مگر بس ہماری دنیا ہی کی زندگی اور ہم پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے ۲۹۔ اور کاش کے تم دیکھ سکتے جبکہ کے یہ کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے، تو وہ پوچھے گا کہ کیا یہ حق نہیں ہے، بولیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم، تو وہ کہے گا کہ اب مزا چکھو عذاب کا اپنے کفر کی پاداش میں ۳۰۔ بڑے خسارے میں پڑھ گئے وہ لوگ جو اللہ سے ملاقات کے انکاری ہیں، یہاں تک کے جب آجائے گا ان پر وہ وقت اچانک، تو وہ کہیں گیں ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جو قیامت کے بارے میں ہم سے ہوئی اور وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر، آگاہ ہوجاو بہت برا بوجھ ہوگا جو وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے ۳۱۔ اور نہیں ہے دنیا کی زندگی (آخرت کے مقابلے میں) مگر کچھ کھیل اور جی بہلا لینا، اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ اختیارکریں، تو کیا تمہیں عقل نہیں ۳۲۔
[سورۃ الاَنعام: آیت ۲۹،۳۰،۳۱،۳۲]
اللہ کے علم، عزمت اور طاقت کی اگر بات کی جائے تو اللہ کو ایک ہی وقت میں دنیا و کائنات اور ساتوں آسمانوں اور تمام چیزوں کا علم ہے اور ایک ہی وقت میں تمام چیزیں اس کے قابو میں ہیں اور وہ اتنا عظیم و برتر ہے کہ انسان کی کمزور عقل اس کے تصور سے قاصر ہے انسان کی سوچ تھک ہار کر واپس لوٹ آتی ہے لیکن اس کا تصور نہیں کر پاتی۔ انسان تو اللہ کی بنائی ہوئی اس کائنات کا تصور نہیں کرسکتا تو اس کے بنانے والے اللہ کا تصور کیسے اس کے چھوٹے دماغ میں آسکتا ہے۔ انسان کی عقل اور علم محدود ہے انسان کے علم میں صرف وہ کچھ آسکتا ہے جتنا اللہ نے اسے درکار کیا ہے اور اللہ کے مرضی کے بغیر وہ اس کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ اللہ ضروریات اور کمزوریوں سے پاک ہے اللہ بھوک اور پیاس، آرام، نیند بلکہ ہرلہٰذ سے پاک ہے۔ جبکہ انسان ان تمام کمزوریوں اور ضروریات میں جکڑا ہوا ہے اور اللہ کا محتاج ہے۔اللہ ہر لہٰذ سے طاقتور ہے اور انتہائی بلند شان اور عظمت والا ہے۔
> قرآن سچائی کو ناپنے کا پیمانا ہے اگر آپ کو کسی چیز کے بارے میں سچ اور جھوٹ کا پتا لگانا ہو تو قرآن سے رجوع کریں۔
<اللہ اور قرآن سچ ہیں اور ان کے خلاف جو بھی خیال آئے وہ جھوٹ اور شیطانی وسوسہ ہے۔
<ہم مسلمان ہیں اور مسلم کے معنٰی ہیں جس نے خود کو اللہ کے احکام کے آگے تسلیم کرلیا ہو اور اللہ کے احکام قرآن میں ہیں ہمیں اللہ کی عبادت کرنی ہے یعنی اللہ کے احکام پر عمل کرنا ہے اور شیطان کے دھوکے میں نہیں آنا اور اس کے جھوٹے وسوسوں کو نہیں ماننا کیونکہ وہ انسان کا کھلا دشمن ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ انسان کو دنیا اور آخرت میں کوئی خیر پہنچے۔ شیطان کا کام ہے اللہ تعالٰی،آخرت،فرشتوں، قرآن اور محمدﷺ کے خلاف شک اور گمراہی پیدا کرنا اور ہماری سوچ میں مداخلت کرنا اور بے ایمانی پیدا کرنا۔
<اور اسی قرآن میں بہت سی آیات میں اللہ کی طرف سے ان لوگوں کو جو نہیں مانتے یعنی کافروں کو چیلنج ہے کہ اگر قرآن کسی انسان نے خود لکھا ہے تو ثابت کرکے دکھادو اور تم بھی کسی سورۃ کی طرح بنا لاو اگر سچے ہو۔
< اسی قرآن میں وہ Scientific & Physical Phenomenons یعنی اللہ کے بنائے ہوئے دنیا کہ وہ اٹل قوانین اور اصول جس کے علوم کو انسان نے سائنس اور فزکس اور مختلف نام دیے ہیں جن کو دریافت ہوئے ابھی کوئی 100سال ہی ہوئے ہوں گے اور قرآن میں یہ 1443 سال پہلے اللہ کی آیات ہیں اور یہی آیات 100 سال پہلے تک متشابہات میں سے تھیں اور صرف ایمان بل غیب Blind Faith سے اس پر یقین کیا جاتا تھا اور صحابہ کرامؓ بھی ان پر بے دیکھے ایمان لائے کیوں کہ ان کو پتا تھا کہ یہ سب اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے حق ہے۔
<قرآن انسان کے لئے اللہ کی طرف سے انسٹرکشن مینول Instruction Manual ہے جیسا کے ہر قسم کی نئی ڈیوائس کے ساتھ ایک انسٹرکشن مینول ہوتا ہے اور وہ اس کے مطابق چلتا ہے۔اگر کسی ایک ڈوائس کو کسی دوسرے کی ڈیوائس کے انسٹرکشن مینول کے مطابق چلایا جائے تو وہ ٹھیک طریقے سے نہیں چلتی ہے اور اس میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔
< دنیا کی زندگی کی مادی دجالیت کا پردا بھی ہے جس نے آخرت کی زندگی کو چھپایا ہوا ہے۔ اور قرآن کے مطابق یہ دنیاوی زندگی اللہ کی طرف سے انسان کے لئے آزمائش ہے کہ ان میں سے کون بے دیکھے اللہ اور آخرت پر ایمان لاتا ہے اور اس کے احکام مانتا ہے اور کون اس سے کفر کرنے والا ہے۔
<’’تمام حمد اور شکر اس اللہ کے لئے جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں کوئی ٹیڑھی بات نا رکھی‘‘ (سورۃ الکہف: ۱) یعنی کے اس قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو فضول ہو یا جھوٹ ہو کیونکہ یہ اس اصل خدا ”اللہ‘‘ کی باتیں ہیں اور قرآن کے ایک ایک لفظ کہ پیچھے بندا مومن کے لئے دنیا و آخرت کے خزانے اور رہنمائی پوشیدا ہے۔
<’’ا ل م ۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں اس میں ہدایت ہے تقوا
(یعنی اللہ کے ڈر کی وجہ سے پرہیزگاری کرنے) والوں کے لئے۔‘‘ (سورۃ البقرہ:۱،۲)
<’’ جس نے بنائی زندگی اور موت تاکہ آزمائے کے تم میں کن کے کام اچھے ہیں اور اللہ عزت والا اور بخشنے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الملک:۲)

0 Comments